جی ہا ں دوستو!
یہ ہے ہمارا تعلیمی نظام اورمیری آپ بیتی اس پہلے میں ذکر کیا تھا کے میں پچھلے دنوں بچوں کے اسکول میں داخلے کے سلسلے میں کافی پرشان رہا ۔ہوا یوں کے مجھے کسی مجبوری کی وجہ سے اپنا گھر شفٹ کرنا پڑا جس کی وجہ سے اسکول بھی تبدیل کرنا پڑا میرے دونوں بچے THE EDUCATORS میں پڑھتے تھے ان اسکول کا یہ فائدہ ہے آپ اگر گھر یا شہر تبدیل کرتے ہیں تو ان کی کسی بھی برانچ میں بچے کو شفٹ کر سکتے ہیں ۔جس کی فیس ہے 500 روپے فی بچہ ہے ۔ جب میں نے اپنے بچے دوسری برانچ میں سفٹ کئے تو دونوں برانچ کی فیس میں فراق تھا یعنی 400 روپے فی بچھ ذیادہ تھی 1800 روپے باقی دوسرے اخراجات ڈال کر 11100 فی بچہ بن رہے تھے جو میں برداشت نہیں کر سکتا تھا کیونکہ اس ساتھ وین یا ٹیکسی کا خرجہ بھی جو 3000 روپے بنا تا ہے میری کوشش تو بڑی تھی کے بچے اچھے اسکول میں پڑھ جائے پر منہگائی ہی اتنی ہے کے دال روٹی پوری کرنا مشکل ہو کیا ہے ۔پھر سوچا کے اسلام آباد ماڈل کالج میں داخل کریا جائے جہاں فیس تو کم ہے 150 فی بچہ اور کتابیں بھی فری ملتی ہیں ۔اور وین کا کرایہ 800 فی بچہ ہے ۔
اب جناب شروع ہوگئے ہم اسکول کی تلاش میں جناب جس جگہ جائے ادھر سے یہ جواب ملے جناب شام کی شفٹ میں داخلہ مل سکتا ہے وہ بھی 4th کلاس کے بچے کو اور ٹو کی تو شام کی شفٹ گوریمنٹ نے پچلے سال سے ختم کر دی ہے ۔اب کیا کریں ایک نیا مسلہ کھڑا ہو گیا کے ٹو والے بچے کا کیا کروں اس کو کس اسکول میں داخل کرؤں ؟؟؟ پھر تلاش شروع کی تو جو پہلا اسلام آباد ماڈل کالج ہے اس میں ٹو میں داخلہ مل سکتا پر فور کلاس والے کو نہیں۔ اب کیا کروں یہاں ایک بات عرض کرتا چلو کے یہ ماڈل کالج کلاس ون سے اے۔فے تک ہوتے ہیں کہی آپ لوگ یہ نہ سمجھے کے بچے تو ٹو اور فور کے ہیں یہ داخل کالج میں کررہے ہیں ۔
ہا ں تو جناب ایک کالج کے پرنسبل نے تو یہ کہے دیا کے آپ چھوٹے والے کو ٹو کے بجائے ون میں داخل کررہا دے اور ب فارم پر پیدائش کی تاریخ تبدیل کرلے میں آپ کے بچے کو داخل کر لو نگا ان صاحب کے پاس میں سفارش سے گیا تھا ۔
0 تبصرے