زندگی سے لمحے چرا کر بٹوے میں رکھتا رہا فرصت سے خرچوں گا بس یہی سوچتا رہا ادھڑتی رہی جیب کرتا رہا ترپائ پھسلتی رہی خوش…
وہ رنگوں میں ڈھلی لڑکی کبھی جب بات کرتی ہے تو اس کے لفظ خوشبو کی طرح محسوس ہوتے ہیں وہ ہنستی ہے تو جیسے سار…
ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی ملاقاتوں کے بعد ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی ملاقاتوں کے بعد پھر بنیں گے آشنا کتنی مداراتوں کے بعد …
تھی مقدر میں لکھی ہوئی دوریاں میری راہ میں حائل تھی مجبوریاں تم کو منظور میرا ہونا نہ تھا تومیرا دل بھی کوئی کھلون…
بچپن کے دُکھ کتنے اچھے ہوتے تھے تب تو صرف کھلونے ٹوٹا کرتے تھے وہ خوشیاں بھی جانے کیسی خوشیاں تھیں تتلی…