ماں


آج ایک ایسی بات آپ دوستوں سے شئیر کرنے جارہا ہوں جو ایک واقعہ ہے جو میری ہمشرہ کے ساتھ اس سال حج کے دوران پیش آیا۔ان کی زبانی سننے ۔

" میں کعبہ میں عصر کی نماز کے بعد بیٹھی کچھ پڑھ رہی تھی کے اچانک ایک بوڑھی خاتون میرے قدم میں آ کر گررہی میں نے ان کو اُٹھا تو ان کی آنکھوں میں اک وایرانی تھی ۔اور ان کا حال پوچھ کے اماں جی خیر ہے ۔ اماں جی پنچابی میں بولیں ۔

" یہ لاکھوں بندے ہیں ان میں سے کوئی بھی ان سا نہیں ۔"

میں نے کہا کن سا نہیں ۔ وہ بولیں میر ے پُتروں(بیٹوں ) جیسا ۔

میں نے پوچھ آپ کے بیٹوں کو کیا ہوا وہ بولیں دونوں جو24 اور22 سال کے جوان تھے وہ دونوں موٹر سائیکل کے ایک حادثے میں ایک ساتھ مرے گئے ۔

اور میں حج میں اس لاکھوں کے مجمے میں ان کو تلاش کر رہی ہوں شاید کوئی ان سا ملتا جلتا کوئی چہرہ ہو۔

میں نے کہہ کے اگر کوئی ان سا ہو بھی تو اس کے دل میں وہ پیار اور محبت نہیں ہو گی جو آپ کے اپنے بیٹوں کے دل میں ہوتی اور نہ ہی آپ کے دل میں وہ پیار اور محبت پیدا ہوگی ۔جو آپ کے دل میں اپنےبیٹوں کے لے ہوتی۔

اس کے بعد یہ بات کر کے وہ اماں جی چلی گیں ۔

دوستوں ایک ایسا ہی غم میرا بھی ہے ۔

وہ تو اپنے بیٹوں کو تلاش کررہیں تھی اور میں 17 سال سے اپنی ماں کو تلاش کررہا ہو کیوں کے وہ آج سے 17 سال پہلے جب میں اپنے ڈپلومہ کے آخری سمسٹر میں تھا تو وہ فوت ہوگیں تھی ۔

یہ ایسے رشتے ہیں جو کبھی نہیں ملتے بس یہ یادیں ہیں جو رہ جاتی ہیں ۔

آنکھوں میں نمی لانے کے لئے ۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!

رولانے کے لئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے